صحیح مسلم حدیث ۱۸۱۱ - اللہم رب جبرائیل دعائے ہدایت

اللہم رب جبرائیل و میکائیل و اسرافیل: حق کی طرف ہدایت کی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۱۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وأبو معن الرقاشي ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ " اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " .

عائشہ روایت:

ابی سلمہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنی نماز کے شروع میں کیا پڑھتے؟ انہوں نے فرمایا کہ «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِى لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِى مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» یعنی ”یا اللہ! پالنے والے جبرئیل اور میکائیل اور اسرافیل کے (جبرائيل اور میکائیل دونوں رحمت کے فرشتے ہیں اور اسرافیل ان کے اور اللہ کے بیچ میں رسول ہیں) آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ظاہر اور پوشیدہ کے جاننے والے تو اپنے بندوں میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ سیدھی راہ بتا جس میں لوگ اختلاف کرتے ہیں اپنے حکم سے بیشک تو ہی جسے چاہے سیدھی راہ بتاتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۱۱ کا خلاصہ

ابی سلمہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز کے شروع میں کیا پڑھتے تھے۔ انہوں نے وہ دعا بیان کی جس میں اللہ کو جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کا رب، آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا، ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا کہا گیا۔ پھر اللہ سے درخواست کی گئی کہ اختلاف والی باتوں میں حق کی طرف ہدایت دے۔ اس حدیث کا اصل موضوع دعائے ہدایت ہے، خاص طور پر رات کی نماز کے آغاز میں۔ یہ دعا بندے کو یہ سکھاتی ہے کہ حق سمجھنے کے لیے اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔ اس روایت میں اختلافات کی تفصیل نہیں، صرف حق کی طرف رہنمائی کی دعا ہے، اس لیے بات اسی حد میں رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم رات کی نماز کے آغاز میں ہدایت کی دعا پڑھتے تھے۔
  • حق سمجھنے کے لیے اللہ سے رہنمائی مانگنی چاہیے۔
  • دعا میں اللہ کے علم غیب و شہادت کا ذکر ہے۔
  • اختلاف میں حق کی طرف ہدایت اللہ ہی کے حکم سے ملتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں