صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۲ - نماز طاقت کے مطابق پڑھو
طاقت کے مطابق نماز پڑھنے کی روایت
صحیح مسلم : ۱۸۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۳۲
وحَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَس ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
اس سند سے بھی مذکورہ حدیث بیان ہوئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۲ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رسی کھولنے کا حکم دیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی نماز اپنی نشاط اور طاقت کے مطابق پڑھے۔ اگر سستی یا تھکن آ جائے تو بیٹھ جائے۔ اس میں عبادت کے بارے میں بہت نرم اور عملی رہنمائی ہے۔ کبھی انسان نفل نماز یا رات کی عبادت میں زیادہ دیر کھڑا رہنا چاہتا ہے، مگر جسم ساتھ نہیں دیتا۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت کو ایسی حالت تک نہ لے جاؤ جہاں دل اور جسم دونوں تھک جائیں۔ “نماز میں تھکن” اور “طاقت کے مطابق عبادت” کے لیے یہ روایت بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- نماز نشاط کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔
- سستی یا تھکن کی حالت میں بیٹھ جانا درست رہنمائی ہے۔
- نفل عبادت میں اپنی طاقت کا خیال رکھنا چاہیے۔
