صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۵ - اونگھ آئے تو پہلے سو جائیں
نماز میں اونگھ آ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
صحیح مسلم : ۱۸۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۳۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ ، لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایک کو تم میں سے اونگھ آ جائے نماز میں تو چاہیئے کہ سو رہے یہاں تک کہ اس کی نیند جاتی رہے اس لئے کہ جب تم میں کوئی اونگھنے لگتا ہے تو گمان ہے کہ وہ مغفرت مانگنے کا ارادہ کرے اور اپنی جان کو گالیاں دینے لگے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران اونگھ آنے کی حالت کا حکم بتایا۔ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آ جائے تو وہ سو رہے، یہاں تک کہ نیند چلی جائے۔ وجہ بھی بتائی کہ ممکن ہے وہ مغفرت مانگنے کا ارادہ کرے، مگر نیند کی وجہ سے اپنی جان کو برا کہنے لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت ہوش اور سمجھ کے ساتھ ہونی چاہیے۔ “نماز میں نیند” یا “اونگھ میں نماز” کے بارے میں یہ حدیث بہت صاف رہنمائی دیتی ہے۔ عبادت کو ایسی حالت میں جاری رکھنا جس میں الفاظ کا ہوش نہ رہے، مناسب نہیں۔ پہلے آرام کر لیا جائے، پھر بہتر توجہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں شدید اونگھ ہو تو آرام کر لینا چاہیے۔
- عبادت سمجھ اور ہوش کے ساتھ ادا کی جائے۔
- نیند کے غلبے میں دعا یا استغفار کے الفاظ بگڑ سکتے ہیں۔
- اپنے جسم کی حالت کا خیال رکھنا بھی دینی سمجھ کا حصہ ہے۔
