صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۶ - قرآن زبان پر اٹکنے لگے تو لیٹ جائیں
رات کی نماز میں نیند غالب ہو جائے تو کیا کریں؟
صحیح مسلم : ۱۸۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۳۶
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ " .
سیدنا ابوہریرہ روایت:
ہمام بن منبہ نے کہا کہ یہ وہ حدیثیں ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے رات کو نماز پڑھتا ہو اور اس کی زبان قرآن میں اٹکنے لگے (نیند کے غلبہ سے) نہ جانتا ہو کہ کیا کہنا ہے تو چاہیئے کہ لیٹ رہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رات کی نماز کے دوران نیند کے غلبے کی ایک خاص صورت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی رات کو نماز کے لیے کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر اٹکنے لگے، یہاں تک کہ اسے معلوم نہ رہے کہ کیا کہہ رہا ہے، تو اسے لیٹ جانا چاہیے۔ یہ “رات کی نماز” اور “قرآن پڑھتے ہوئے نیند” کے بارے میں نہایت عملی رہنمائی ہے۔ عبادت کا حسن یہ ہے کہ آدمی سمجھ کے ساتھ تلاوت کرے۔ اگر نیند اتنی غالب ہو جائے کہ الفاظ بھی درست ادا نہ ہوں اور معنی کا ہوش بھی نہ رہے، تو آرام کرنا بہتر ہے۔ پھر جب طبیعت سنبھلے تو عبادت زیادہ توجہ سے ہو سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز میں نیند غالب ہو تو لیٹ جانا چاہیے۔
- قرآن سمجھ اور ہوش کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
- عبادت میں اپنی حالت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- نیند کے غلبے میں زبان کا اٹکنا آرام کی علامت ہے۔
