صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۷ - قرآن سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو
قرآن سننے کی حدیث: سورہ نساء کی آیت پر آنسو
صحیح مسلم : ۱۸۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۷
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرَأُ عَلَيْكَ ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ قَالَ : إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ، فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 رَفَعْتُ رَأْسِي ، أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ " .
عبداللہ روایت:
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میرے آگے قرآن پڑھو۔“ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کے آگے پڑھوں اور آپ ہی پر اترا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا جی چاہتا ہے کہ میں کسی اور سے سنوں۔“ پھر میں نے سورۂ نساء پڑھی یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا» تو میں نے سر اٹھایا یا مجھے کسی نے چٹکی لی تو میں نے سر اٹھایا اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں قرآن سننے کا بہت نرم اور دل کو چھونے والا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں آپ کو پڑھوں، حالانکہ قرآن آپ ہی پر اترا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں اسے کسی اور سے سنوں۔ پھر انہوں نے سورہ نساء پڑھی، یہاں تک کہ آیت “فکیف اذا جئنا...” تک پہنچے۔ جب انہوں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے ہیں۔ یہاں قرآن سننا، سورہ نساء، تلاوت میں تدبر اور نبی کے آنسو اصل موضوع ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن سننا بھی ایک بابرکت عمل ہے۔
- بہترین قاری بھی دوسرے سے قرآن سن سکتا ہے۔
- قرآن کی آیات دل پر اثر ڈالتی ہیں۔
- تلاوت کے وقت دل کا نرم ہونا اچھی کیفیت ہے۔
