صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۸ - منبر پر قرآن سننے کا حکم
منبر پر قرآن سننے کی حدیث اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ
صحیح مسلم : ۱۸۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۸
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ جميعا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : اقْرَأْ عَلَيَّ .
اعمش روایت:
اعمش سے یہی روایت اس اسناد سے مروی ہے مگر اس میں اتنی بات زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ ”میرے آگے قرآن پڑھو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۸ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے کا ایک اور طریق ہے، مگر اس میں ایک بات زیادہ آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے جب آپ نے فرمایا: میرے سامنے پڑھو۔ اس چھوٹے سے اضافے سے واقعے کی صورت مزید صاف ہو جاتی ہے، مگر اصل پیغام وہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کسی دوسرے کی زبان سے سننا پسند فرمایا۔ قرآن سننا، منبر پر تلاوت، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت اور تلاوت کا اثر اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قرآن صرف پڑھنے کی چیز نہیں، سننے کی چیز بھی ہے۔ جب کوئی اچھا پڑھنے والا قرآن پڑھتا ہے تو سننے والے کا دل بھی متوجہ ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ہوتے ہوئے قرآن سننے کو فرمایا۔
- قرآن سننے کی طلب ایک پسندیدہ عمل کے طور پر سامنے آئی۔
- روایت میں اضافی لفظ واقعے کی تفصیل واضح کرتا ہے۔
- سننے والا بھی قرآن سے اثر لے سکتا ہے۔
