حدیث ۱۸۶۹

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۹

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ ، وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : " اقْرَأْ عَلَيَّ ، قَالَ : أَقْرَأُ عَلَيْكَ ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ قَالَ : إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ، قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41 فَبَكَى " ، قَالَ مِسْعَرٌ : فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ ، أَوْ مَا كُنْتُ فِيهِمْ شَكَّ مِسْعَرٌ .

‏‏‏‏ ابراہیم نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم میرے آگے قرآن پڑھو۔“ انہوں نے عرض کیا کہ میں آپ کے آگے پڑھوں اور آپ پر اترا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”میں چاہتا ہوں کہ اس کو دوسرے سے سنوں۔“ غرض سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سورۂ نساء کے شروع سے پڑھا اس آیت تک «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا» اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روئے۔ مسعر نے کہا: روایت کی مجھ سے معن نے، ان سے جعفر نے، ان سے ان کے باپ نے، ان سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں امت کے حال سے واقف تھا جب تک ان میں تھا۔“ (یعنی زندہ تھا) مسعر کو شک ہے کہ «كُنْتُ» کہا یا «دُمْتُ» کہا معنی دونوں کے ایک ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں