صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۴ - خطبہ اور نماز کا درمیانہ انداز

خطبہ جمعہ اور نماز میں درمیانہ طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۰۴

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ سِمَاكٍ .

سیدنا جابر بن سمره روایت:

میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی نمازیں پڑھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور خطبہ دونوں درمیانے ہوتے تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۴ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی نمازیں پڑھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی انداز یہی تھا۔ جمعہ کا خطبہ لوگوں کے لیے نصیحت کا وقت ہے، اس لیے خطیب کو ایسی بات کرنی چاہیے جو سننے والوں تک صاف پہنچے۔ اسی طرح نماز میں بھی سکون اور وقار ہو، مگر ایسی لمبائی نہ ہو جو لوگوں کے لیے مشکل بن جائے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین میں خوبصورتی اعتدال سے آتی ہے، خاص طور پر اجتماعی عبادات میں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول نماز اور خطبہ میں اعتدال تھا۔
  • خطبہ میں بات صاف اور مناسب مقدار میں ہونی چاہیے۔
  • اجتماعی عبادت میں لوگوں کی حالت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔
  • دینی رہنمائی میں سادگی اور توازن مؤثر ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں