صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۳ - نماز اور خطبہ میں اعتدال

نماز اور خطبہ میں اعتدال کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۰۳

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا ، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا " .

سیدنا جابر بن سمرہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور خطبہ بیچ بیچ کا تھا (یعنی نہ بہت لمبا، نہ چھوٹا)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۳ کا خلاصہ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا۔ یہ حدیث نماز اور خطبہ میں اعتدال کا خوبصورت سبق دیتی ہے۔ اس میں نہ بے جا طوالت ہے اور نہ اتنی کمی کہ مقصد ہی پورا نہ ہو۔ خطبہ جمعہ کا مقصد لوگوں کو نصیحت کرنا، یاد دہانی کرانا اور دین کی بات پہنچانا ہے۔ اگر خطبہ بہت لمبا ہو تو لوگ تھک سکتے ہیں، اور اگر بہت مختصر ہو تو فائدہ کم ہو سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ نماز اور خطبہ دونوں میں مناسب توازن رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز اور خطبہ میں مناسب توازن بہتر طریقہ ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اعتدال پر مبنی تھا۔
  • خطبہ اتنا ہو کہ بات سمجھ آ جائے اور لوگ تھکیں نہیں۔
  • عبادت میں سنت کے مطابق انداز اپنانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں