صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۲ - جمعہ چھوڑنے کی سخت تنبیہ
جمعہ چھوڑنے کی حدیث اور دل کی غفلت
صحیح مسلم : ۲۰۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۰۲
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي أَخَاهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ ، عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ روایت:
حکم بن میناء سے سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرماتے تھے اپنے منبر کی لکڑیوں پر کہ لوگ جمعہ کو چھوڑ دینے سے باز آ جائیں، نہیں تو اللہ تعالٰی ان کے دلوں پر مہر کر دے گا کہ وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر جمعہ چھوڑنے والوں کو سخت تنبیہ فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر کر دے گا، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔ یہ جمعہ کی نماز کی اہمیت کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ حدیث کا انداز بہت سنجیدہ ہے، اس لیے مسلمان کو جمعہ کے معاملے میں سستی، لاپرواہی اور عادتاً چھوڑنے سے بچنا چاہیے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ عبادت چھوڑتے چھوڑتے انسان کے دل میں دینی احساس کم ہو سکتا ہے۔ جمعہ کی نماز صرف ہفتہ وار اجتماع نہیں، بلکہ نصیحت، ذکر اور امت کے ساتھ جڑنے کا موقع بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کو عادتاً چھوڑنا خطرناک غفلت کی طرف لے جا سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر سے اس معاملے پر سخت تنبیہ فرمائی۔
- دل کی نرمی اور دینی بیداری کے لیے جمعہ کا اہتمام ضروری ہے۔
- عبادت میں مسلسل لاپرواہی انسان کو غافل بنا سکتی ہے۔
