صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۱ - خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دینا
خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۰۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۰۱
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أم الحكم يخطب قاعدا ، فقال : " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 " .
کعب بن عجرہ روایت:
کعب بن عجرہ مسجد میں داخل ہوئے اور ام حکیم کا بیٹا عبدالرحمٰن بیٹھے بیٹھے خطبہ پڑھتا تھا تو انہوں نے کہا اس خبیث کو دیکھو کہ بیٹھے ہوئے خطبہ پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا» ”اور جب دیکھتے ہیں کسی تجارت یا کھیل کو تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور تجھ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے عبدالرحمٰن بن ام حکیم کو بیٹھے ہوئے خطبہ دیتے دیکھا۔ انہوں نے اس پر سخت ناپسندیدگی ظاہر کی اور قرآن کی آیت پیش کی کہ لوگ تجارت یا کھیل کی طرف چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ گئے۔ اس سے خطبہ جمعہ کے آداب میں کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا پہلو سامنے آتا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ عام گفتگو نہیں بلکہ دینی نصیحت کا اہم موقع ہے۔ اس میں خطیب کے عمل کو بھی سنت کے قریب ہونا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ جمعہ کا طریقہ امت کے لیے اہم نمونہ ہے، اس لیے مسجد، منبر اور خطبہ کے آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطبہ جمعہ کو سنجیدگی اور احترام کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
- دینی کام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو سامنے رکھنا چاہیے۔
- قرآن کی آیت سے خطبہ کے آداب سمجھائے جا سکتے ہیں۔
- منبر پر خطیب کا عمل بھی لوگوں کے لیے پیغام بنتا ہے۔
