صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۰ - خطبہ میں درست الفاظ کا خیال
خطبہ میں الفاظ کی درستگی کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۰۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۱۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ ، قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : فَقَدْ غَوِيَ .
عدی بن حاتم روایت:
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خطبہ پڑھا اور اس نے کہا «مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى» یعنی ”جو اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی اس نے راہ پائی اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا برا خطیب ہے۔ یوں کہو: «وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» “ ابن نمیر نے اپنی روایت میں کہا: «فَقَدْ غَوِىَ»۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خطبہ دیا اور کہا کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ راہ پا گیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے الفاظ پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ تم برے خطیب ہو، یوں کہو: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی بیان اور خطبہ میں الفاظ کا انتخاب بہت اہم ہے۔ بات کا مطلب درست ہو، مگر انداز میں ادب اور وضاحت بھی ہو۔ خطیب کو جلدی، بے دھیانی یا مبہم الفاظ سے بچنا چاہیے۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر میں احترام اور درست نسبت کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی خطبہ میں الفاظ سوچ سمجھ کر استعمال کرنے چاہییں۔
- اللہ اور رسول کے ذکر میں ادب اور وضاحت ضروری ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط انداز کی اصلاح فرمائی۔
- خطیب کی ذمہ داری ہے کہ بات صاف اور درست پہنچائے۔
