صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۹ - مختصر خطبہ سمجھ داری کی نشانی
مختصر اور مؤثر خطبہ دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۰۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۰۹
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ : خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قُلْنَا : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ ، فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ ، مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .
ابووائل روایت:
خطبہ پڑھا ہم پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اور بہت مختصر پڑھا اور نہایت بلیغ پھر جب وہ اترے منبر سے تو ہم نے کہا: اے ابوالیقظان! تم نے بہت بلیغ خطبہ پڑھا اور نہایت مختصر کہا اور اگر آپ ذرا اس خطبہ کو طویل کرتے تو بہتر ہوتا۔ تب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ فرماتے تھے: ”آدمی کا نماز کو لمبا کرنا اور خطبہ کو مختصر کرنا اس کے سمجھ دار ہونے کی نشانی ہے سو تم نماز کو لمبا کیا کرو اور خطبہ کو چھوٹا اور بعض بیان جادو ہوتا ہے۔“ (یعنی تاثیر رکھتا ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے نہایت مختصر مگر بلیغ خطبہ دیا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے بہت اچھا اور مختصر خطبہ دیا، اگر کچھ لمبا کر دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا مختصر ہونا اس کی سمجھ داری کی نشانی ہے، اس لیے نماز کو لمبا کرو اور خطبہ کو مختصر کرو۔ ساتھ ہی فرمایا کہ بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ خطبہ بے فائدہ حد تک چھوٹا ہو، بلکہ بات واضح، جامع اور مؤثر ہو۔ جمعہ کے خطبہ میں غیر ضروری طوالت کے بجائے مضبوط، صاف اور دل تک پہنچنے والی نصیحت بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطبہ مختصر، بلیغ اور فائدہ مند ہونا چاہیے۔
- نماز کو وقار اور اطمینان کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
- اچھا بیان سننے والوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
- خطیب کو غیر ضروری لمبی گفتگو سے بچنا چاہیے۔
