صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۳ - سورہ ق کی دوسری سند
سورہ ق کی روایت دوسری سند سے
صحیح مسلم : ۲۰۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۱۳
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا ، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ .
اس سند سے بھی مذکورہ حدیث کی مانند روایت آئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اسی مضمون کی روایت دوسری سند سے بھی آئی ہے۔ یعنی عمرہ بنت عبدالرحمٰن کی بہن سے وہی بات منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر سورہ ق پڑھتے تھے۔ اس طرح کی روایت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ایک ہی بات مختلف سندوں سے بھی نقل ہو سکتی ہے۔ اصل پیغام وہی ہے جو پچھلی حدیث میں آیا: جمعہ کا خطبہ قرآن سننے اور یاد رکھنے کا موقع تھا۔ صحابیات نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن سنا اور محفوظ کیا۔ اس حدیث میں کوئی نئی تفصیل بیان نہیں ہوئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا درست ہے کہ یہ اسی واقعہ کی تائید کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون کی روایت مختلف سند سے بھی آ سکتی ہے۔
- خطبہ جمعہ میں سورہ ق کی تلاوت کا ذکر دوبارہ آیا ہے۔
- صحابیات بھی خطبہ سے قرآن یاد کرتی تھیں۔
- حدیث کے متن میں جو بات ہو، اسی پر بات محدود رکھنی چاہیے۔
