صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۴ - سورہ ق نبی کی زبان سے یاد کی
سورہ ق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کرنا
صحیح مسلم : ۲۰۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۱۴
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ : " مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ " ، قَالَتْ : " وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا " .
حارثہ کی بیٹی نے کہا کہ نہیں یاد کی میں نے سوره «ق» مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہر جمعہ میں پڑھا کرتے تھے اور ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک تھا۔ (یہ اپنا قریب بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ سبحان اللہ! کیا خوش نصیب لوگ تھے۔ کاش! یہ فقیر اس تنور کا خادم ہوتا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۴ کا خلاصہ
اس روایت میں حارثہ بن نعمان کی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سورہ ق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر یاد کی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ خطبہ میں اسے پڑھتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا تنور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک تھا۔ اس سے روایت کرنے والی صحابیہ کی قربت کا ذکر آتا ہے، مگر اصل موضوع خطبہ جمعہ میں سورہ ق کی تلاوت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ میں بار بار پڑھی جانے والی قرآن کی آیات سننے والوں کے دل و دماغ میں محفوظ ہو جاتی تھیں۔ جمعہ کا خطبہ صرف وعظ نہیں بلکہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورہ ق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں پڑھتے تھے۔
- صحابیہ نے قرآن براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کیا۔
- خطبہ جمعہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا موقع ہے۔
- بار بار سننے سے قرآن یاد ہو سکتا ہے۔
