صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۶ - خطبہ میں ہاتھ اٹھانے کا طریقہ
خطبہ جمعہ میں ہاتھ اٹھانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۰۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۱۶
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، قَالَ : رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ ، فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ ، " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ " .
عمارہ بن رؤیبہ روایت:
عمارہ بن رؤیبہ نے بشر، مروان کے بیٹے کو دیکھا کہ منبر پر دونوں ہاتھ اٹھائے ہے (یعنی دعا کے لئے) تو کہا کہ اللہ خراب کرے ان دونوں ہاتھوں کو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ اس سے زیادہ نہ کرتے تھے اور اشارہ کیا اپنے کلمہ کی انگلی سے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمارہ بن رؤیبہ نے بشر بن مروان کو منبر پر دونوں ہاتھ اٹھاتے دیکھا۔ انہوں نے اس پر ناپسندیدگی ظاہر کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ نہیں کرتے تھے، پھر انہوں نے اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع خطبہ جمعہ کے دوران منبر پر ہاتھ اٹھانے کا انداز ہے۔ روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے طور پر انگلی کے اشارے کا ذکر آیا ہے، دونوں ہاتھ اٹھانے کا نہیں۔ اس لیے خطیب کے لیے اہم ہے کہ وہ خطبہ کے عمل میں سنت کے قریب رہے۔ یہاں بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ روایت میں منبر پر دعا یا اشارے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خطبہ کے عمل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کا خیال رکھنا چاہیے۔
- اس روایت میں منبر پر دونوں ہاتھ اٹھانے پر ناپسندیدگی آئی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انگلی کے اشارے کا ذکر ملتا ہے۔
- دینی عمل میں صحابہ سنت کی حفاظت کا اہتمام کرتے تھے۔
