صحیح مسلم حدیث ۲۰۶۹ - اے عمر انہیں کھیلنے دو
انہیں کھیلنے دو حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا سیدنا عمرؓ کو جواب
صحیح مسلم : ۲۰۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۶۹
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ ، إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حبشی کھیلتے تھے اپنے تیروں سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کنکریوں کی طرف جھکے کہ ان کو ماریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! ان کو کھیلنے دو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۰۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حبشی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس اپنے تیروں یا نیزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے کنکریاں اٹھائیں تاکہ انہیں روکیں۔ اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اے عمر! انہیں کھیلنے دو۔ اس روایت کا اصل موضوع نرمی اور موقع کی رعایت ہے۔ یہاں کھیل کا ذکر خاص انداز میں آیا ہے، یعنی حبشیوں کا ہتھیاروں کے ساتھ کھیل۔ اس لیے اس حدیث کو عام بے لگام تفریح کے معنی میں نہیں پھیلانا چاہیے۔ لوگ اس روایت کو انہیں کھیلنے دو حدیث، حبشیوں کا کھیل حدیث، اور عمر رضی اللہ عنہ والی عید کی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔ متن ہمیں بتاتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر منع کرنے کے بجائے اجازت دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اس خاص کھیل کو روکنے سے منع فرمایا۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سختی کے جواب میں نرمی دکھائی گئی۔
- حدیث میں حبشیوں کے ہتھیاروں کے ساتھ کھیل کا ذکر ہے۔
- واقعے کو اسی خاص موقع اور الفاظ کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
