صحیح مسلم حدیث ۲۰۸۱ - بادل جمع ہونا اور بارش کی شدت
بارش کی شدت کی حدیث: اللہ کے حکم سے بادل جمع ہونا
صحیح مسلم : ۲۰۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۸۱
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ " فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ ، وَمَكَثْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ " .
انس روایت:
ثابت بیان کرتے ہیں کہ روایت کی ان سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مانند اوپر کی روایت کے اور اس میں یہ بات زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدلیوں کو اکٹھا کر دیا اور ہمارا یہ حال رہا کہ زبردست آدمی بھی اپنے گھر جانے کو ڈرتا تھا (یعنی مینہ کی شدت سے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع بارش کی شدت اور اللہ کی قدرت ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کے مانند بات نقل ہوئی، مگر اس میں یہ اضافہ آیا کہ اللہ تعالیٰ نے بدلیوں کو جمع فرما دیا۔ پھر بارش کا حال ایسا ہوا کہ مضبوط اور زبردست آدمی بھی اپنے گھر والوں کے پاس جانے کے بارے میں فکر مند ہو جاتا تھا۔ یہاں مینہ کی شدت کا ذکر ہے، اس لیے اس حدیث کو بارش کی حدیث، بادل جمع ہونے کی حدیث، اور بارش کی شدت والی روایت کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ اس میں صاف بات یہ ہے کہ بادل، بارش اور موسم سب اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ انسان چاہے کتنا مضبوط ہو، سخت بارش کے وقت اپنی کمزوری محسوس کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بادل اور بارش اللہ تعالیٰ کے حکم سے جمع اور نازل ہوتے ہیں۔
- شدید بارش میں انسان اپنی طاقت کے باوجود محتاجی محسوس کرتا ہے۔
- موسم کی سختی بندے کو اللہ کی قدرت یاد دلاتی ہے۔
