صحیح مسلم حدیث ۲۰۸۰ - مدینہ کے ارد گرد بارش کی دعا
بارش روکنے کی دعا حدیث: مدینہ کے اوپر سے بادل کھل گئے
صحیح مسلم : ۲۰۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۸۰
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا ، وَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى : " فَتَقَشَّعَتْ ، عَنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا ، وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً ، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھتے تھے جمعہ کا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو گئے اور پکار کر کہا: اے اللہ کے نبی! مینہ نہیں برستا اور درختوں کے پتے سوکھ گئے اور جانور مر گئے۔ اور بیان کی حدیث آخر تک۔ اور عبدالاعلیٰ کی روایت میں یہ ہے آخر مینہ مدینہ پر سے کھل گیا اور اس کے ارد گرد برستا رہا اور مدینہ میں ایک بوند نہ گرتی تھی۔ اور میں نے دیکھا کہ ٹوپی کی طرح بیچ میں سے کھلا ہوا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کے واقعے کا ایک پہلو بیان کرتے ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ کھڑے ہوئے اور کہا کہ بارش نہیں ہو رہی، درختوں کے پتے سوکھ گئے اور جانور مر گئے۔ پھر حدیث آگے پچھلے معنی کے ساتھ چلتی ہے۔ عبدالاعلیٰ کی روایت میں خاص بات یہ ہے کہ آخر میں بارش مدینہ سے کھل گئی، مگر اس کے ارد گرد برستی رہی، اور مدینہ پر ایک قطرہ بھی نہ گرتا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مدینہ کو ٹوپی یا حلقے کی طرح بیچ سے کھلا دیکھا۔ اس روایت کا موضوع بارش کی دعا، پھر بارش کو نقصان سے ہٹا کر فائدے والی جگہوں کی طرف کرنے کی دعا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوگوں نے بارش نہ ہونے کی تکلیف نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے بیان کی۔
- درختوں اور جانوروں کی حالت کا ذکر قحط کی شدت بتاتا ہے۔
- زیادہ بارش کے بعد مدینہ کے اوپر سے بادل کھلنے کا ذکر آیا ہے۔
- روایت میں بارش ارد گرد رہنے اور مدینہ پر قطرہ نہ گرنے کی تفصیل ہے۔
