صحیح مسلم حدیث ۲۰۷۹ - بارش کے لیے دعا اور بارش رکنے کی دعا
بارش کی دعا کی حدیث: قحط، خطبہ جمعہ اور اللہم حوالینا
صحیح مسلم : ۲۰۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۷۹
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي إسحاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ ، وَفِيهِ قَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " ، قَالَ فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ إِلَّا تَفَرَّجَتْ ، حَتَّى رَأَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ وَسَالَ وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا ، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِجَوْدٍ .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایک قحط پڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن جمعہ کو منبر پر خطبہ پڑھتے تھے کہ ایک گاؤں والا کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے مال برباد ہو گئے اور لڑکے بالے بھوکے مر گئے۔ اور اخیر تک حدیث بیان کی حدیث اول کے ہم معنی۔ اور اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں عرض کیا: ” «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا» اے اللہ! ہمارے گرد برسا، نہ ہم پر۔“غرض آپ جدھر ہاتھ سے اشارہ کرتے ادھر سے بدلی کھلتی جاتی تھی، یہاں تک کہ ہم نے مدینہ کو دیکھا کہ آنگن کی طرح بیچ میں سے کھل گیا، اور قنات کا نالہ ایک مہینہ تک بہتا رہا اور کوئی شخص باہر سے نہیں آیا مگر اس نے ارزانی کی خبر دی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۷۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں قحط پڑا۔ جمعہ کے دن نبی صلى الله عليه وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا کہ مال برباد ہو گئے اور بچے بھوکے ہو گئے۔ پھر حدیث پچھلے واقعے کے معنی کے ساتھ بیان ہوئی۔ اس روایت میں خاص لفظ یہ آیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے دعا کی: اللہم حوالینا ولا علینا، یعنی اے اللہ ہمارے گرد برسا، ہم پر نہیں۔ پھر جس طرف آپ صلى الله عليه وسلم ہاتھ سے اشارہ کرتے، ادھر سے بادل کھل جاتے۔ مدینہ بیچ سے کھلا نظر آیا، اور قنات کا نالہ ایک مہینہ بہتا رہا۔ اس حدیث میں بارش کی دعا، قحط کی شکایت، اور زیادہ بارش کو مفید رخ پر کرنے کی دعا بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قحط اور بھوک کے وقت اللہ سے دعا کی گئی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بارش کو مکمل بند کرنے کے بجائے ارد گرد برسنے کی دعا کی۔
- روایت میں ہاتھ کے اشارے کے ساتھ بادل کھلنے کا ذکر ہے۔
- بارش کا فائدہ باہر سے آنے والوں کی خبر میں بھی بیان ہوا۔
