صحیح مسلم حدیث ۲۰۷۸ - اللہم اغثنا کی دعا
اللہم اغثنا حدیث: جمعہ کے خطبے میں بارش کی دعا
صحیح مسلم : ۲۰۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۷۸
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ جُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا ، ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ يُغِثْنَا ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا " . قَالَ أَنَسٌ : وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ ، قَالَ : فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ ، قَالَ : فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ حَوْلَنَا وَلَا عَلَيْنَا ، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " ، فَانْقَلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ ، قَالَ شَرِيكٌ : فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي .
انس بن مالک روایت:
ایک شخص مسجد میں جمعہ کے دن آیا اس دروازہ سے کہ دارالقضاء کی طرف ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ پڑھتے تھے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا ہو گیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگوں کے مال برباد ہو گئے اور راہیں بند ہو گئیں، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی سے دعا کیجئے کہ ہم کو پانی دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا: ” «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» یا اللہ! ہم کو پانی دے، یا اللہ! ہم کو پانی دے، یا اللہ! ہم کو پانی دے۔“سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ہم آسمان میں گھٹا دیکھتے تھے نہ بدلی کا کوئی ٹکڑا۔ اور ہم میں اور سلع کے بیچ میں نہ کوئی گھر تھا نہ محلہ (سلع ایک پہاڑ کا نام ہے مدینہ کے قریب) غرض سلع کے پیچھے سے ایک بدلی اٹھی ڈھال کے برابر اور جب آسمان کی بیچ میں آئی تو پھیل گئی اور مینہ برسنے لگا (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے اور اللہ کا فضل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو ایسا جلد قبول کیا ورنہ پانی کا یہاں گمان نہ تھا) پھر اللہ کی قسم! ہم نے آفتاب نہ دیکھا، ایک ہفتے تک پھر ایک شخص آیا اس دروازہ سے دوسرے جمعہ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا ہو کر اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مال برباد ہو گئے اور راستے بند ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش کو روک دے۔تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا: ” «اللَّهُمَّ حَوْلَنَا وَلاَ عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» اے اللہ! ہمارے گرد برسا، نہ ہمارے اوپر۔ یا اللہ! ٹیلوں پر اور بلندیوں پر اور نالوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہ پر برسا۔“ غرض مینہ فوراً کھل گیا۔ اور ہم دھوپ میں نکلے۔شریک نے کہا: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا یہ وہی شخص تھا جو پہلے آیا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا (بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ وہ پہلا ہی شخص تھا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۷۸ کا خلاصہ
یہ حدیث بارش کی دعا کے مشہور واقعے کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک شخص مسجد میں آیا، جبکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ اس نے عرض کیا کہ مال برباد ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ سے دعا کریں کہ پانی دے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور تین بار دعا کی: اللہم اغثنا۔ پھر بادل اٹھا، پھیل گیا، اور بارش ہوئی۔ اگلے جمعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ مال برباد ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، بارش رکنے کی دعا کیجیے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ہمارے ارد گرد برسا، ہم پر نہیں۔ اس حدیث میں ضرورت کے وقت دعا، بارش کی طلب، اور پھر نقصان کے وقت بارش ہٹنے کی دعا دونوں صاف بیان ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے دعا کی درخواست کی گئی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے خطبے کے دوران ہاتھ اٹھا کر بارش کی دعا کی۔
- بارش زیادہ ہو گئی تو اسے مفید جگہوں کی طرف پھیرنے کی دعا کی گئی۔
- سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آخر میں یہ بھی کہا کہ وہ نہیں جانتے وہی شخص تھا یا کوئی اور۔
