صحیح مسلم حدیث ۲۱۸۰ - تین سفید کپڑے
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا کفن: حُلّہ نہیں، تین سفید کپڑے
صحیح مسلم : ۲۱۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۸۰
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أُدْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ ، كَانَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ نُزِعَتْ عَنْهُ وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولٍ يَمَانِيَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا عِمَامَةٌ وَلَا قَمِيصٌ " ، فَرَفَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ ، فَقَالَ : أُكَفَّنُ فِيهَا ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ يُكَفَّنْ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُكَفَّنُ فِيهَا ! فَتَصَدَّقَ بِهَا " ،
ترجمہ اس کا وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کے حلہ میں لپیٹنا تھا جو سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا تھا۔ پھر اتار ڈالا اور آخر میں یہ ہے کہ اس حلہ کو خیرات کر دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۸۰ کا خلاصہ
یہ حدیث کفن نبوی کے بارے میں پچھلی روایت کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پہلے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ایک یمنی حُلّہ میں لپیٹا گیا جو عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا تھا، پھر وہ اتار دیا گیا، اور آپ صلى الله عليه وسلم کو تین سحولی یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ روایت کے الفاظ میں صاف ہے کہ ان میں نہ عمامہ تھا اور نہ قمیص۔ آخر میں عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی ہے کہ انہوں نے پہلے سوچا کہ وہ اسی حُلّہ میں کفن دیے جائیں گے، پھر کہا کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اس میں کفن نہیں دیا گیا تو میں کیوں، اور اسے صدقہ کر دیا۔ یہ حدیث کفن میں سادگی، سفید کپڑوں اور اتباع کے احساس کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو آخرکار تین سحولی یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا۔
- یمنی حُلّہ پہلے لپیٹا گیا مگر پھر اتار دیا گیا۔
- کفن میں عمامہ اور قمیص نہ تھی۔
- عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے حُلّہ صدقہ کر دیا۔
