حدیث ۲۱۷۷
صحیح مسلم : ۲۱۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۷۷
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا ، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْءٌ يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةٌ ، فَكُنَّا إِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعُوهَا مِمَّا يَلِي رَأْسَهُ ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الْإِذْخِرَ ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا " ،
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ ہماری غرض یہ تھی کہ اللہ راضی ہو۔ سو ہماری مزدوری اللہ پر ہو چکی، سو تم میں سے کسی نے تو ایسا کیا کہ اس نے اپنی مزدوری کا کوئی حصہ دنیا میں نہ کھایا، ان ہی میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جو جنگ احد میں شہید ہوئے کہ ان کے کفن کو ایک چادر کے سوائے کچھ نہ ملا وہ بھی ایسی تھی کہ جب ہم ان کے سر پر ڈالتے تو پیر نکلے رہتے۔ (کھل جاتے) اور جو پیر پر ڈالتے تو سر نکلا رہتا (کھل جاتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چادر تو سر پر ڈال دو اور پیروں کو اذخر سے چھپا دو۔“ (اذخر ایک گھاس ہے مدینہ میں بہت ہوتی ہے) اور ہم میں سے کوئی ایسا ہے کہ اس کے پھل پک گئے اور وہ اس میں چن چن کر کھاتا ہے (یعنی دنیا میں بھی ایمان کے سبب سے ترقی پائی)۔
