صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۸ - ہجرت کی روایت
اخلاص والی ہجرت: اسی روایت کی دوسری سند
صحیح مسلم : ۲۱۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۷۸
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جميعا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
مذکورہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۸ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا خباب رضی اللہ عنہ والی پچھلی حدیث ہی کی دوسری سند ہے۔ اس میں وہی مضمون آتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور ان کا مقصد اللہ کی رضا تھا۔ اسی مضمون میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کے سادہ کفن کا ذکر بھی شامل ہے۔ اس طرح یہ حدیث ہجرت فی سبیل اللہ، اخلاص اور آخرت کے اجر کو یاد دلاتی ہے۔ چونکہ متن میں صرف اتنا آیا ہے کہ روایت اسی سند سے مروی ہے، اس لیے اس سے نئی تفصیل نہیں نکالنی چاہیے۔ بس یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ہی واقعہ مختلف سندوں سے آیا، اور اس کا سبق وہی ہے: نیت اللہ کے لیے ہو، دنیا کم ملے یا زیادہ، اصل معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ پچھلی روایت کی تائید میں دوسری سند ہے۔
- ہجرت کا مقصد اللہ کی رضا بتایا گیا۔
- مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے کفن کا واقعہ اسی مضمون سے جڑا ہے۔
- ایک ہی روایت کی متعدد سندیں مضمون کو مزید واضح کرتی ہیں۔
