صحیح مسلم حدیث ۲۲۰۸ - آج اللہ کا نیک بندہ فوت ہوا

نیک بندے کی وفات کی حدیث: اصحمہ نجاشی پر نماز جنازہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۰۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ " ، فَقَامَ فَأَمَّنَا وَصَلَّى عَلَيْهِ .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج اللہ کے ایک نیک بندے اصحمہ نے انتقال کیا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمارے امام بنے اور ان پر نماز پڑھی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج اللہ کے ایک نیک بندے اصحمہ کا انتقال ہوا ہے۔ پھر آپ کھڑے ہوئے، صحابہ کے امام بنے اور ان پر نماز پڑھی۔ اس روایت کا مرکزی موضوع نیک بندہ، نجاشی کی وفات اور نماز جنازہ ہے۔ یہاں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ کے لیے عبد صالح یعنی اللہ کا نیک بندہ فرمایا۔ اس کے بعد صرف اطلاع نہیں دی، بلکہ عملی طور پر نماز بھی پڑھائی۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ وفات کی خبر سن کر مسلمان کے لیے دعا اور نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس متن میں صفوں یا تکبیروں کی تفصیل نہیں، اس لیے اس روایت کی تشریح اسی حد تک رہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصحمہ کے بارے میں اس روایت میں اللہ کا نیک بندہ ہونے کا ذکر آیا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی امامت کرتے ہوئے نماز جنازہ پڑھائی۔
  • وفات کی خبر کے ساتھ دعا اور نماز کا عملی اہتمام کیا گیا۔
  • حدیث کے مختصر الفاظ کو اسی طرح سمجھنا چاہیے جس طرح وہ آئے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں