صحیح مسلم حدیث ۲۲۰۹ - تمہارے بھائی کا جنازہ پڑھو
غائبانہ جنازہ کی حدیث: تمہارے بھائی کے لیے کھڑے ہو جاؤ
صحیح مسلم : ۲۲۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۰۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَقُمْنَا فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا، سو کھڑے ہو اور اس پر نماز پڑھو۔“ پھر ہم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صفیں باندھ دیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، سو کھڑے ہو اور اس پر نماز پڑھو۔ پھر صحابہ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دو صفیں بنائیں۔ یہاں اصل موضوع غائبانہ نماز جنازہ، بھائی کے لیے دعا، اور جنازہ میں صف بندی ہے۔ حدیث کے الفاظ بہت صاف ہیں: پہلے وفات کی خبر دی گئی، پھر نماز کا حکم دیا گیا، پھر دو صفوں کا ذکر آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف خبر نہیں تھی، بلکہ ایک اجتماعی عبادت کا موقع بنا۔ تشریح میں نجاشی کا نام دوسری روایات کے مطابق آتا ہے، مگر اس متن میں زور بھائی، نماز اور دو صفوں پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پانے والے کو تمہارے بھائی کے لفظ سے یاد فرمایا۔
- صحابہ کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔
- اس روایت میں دو صفیں بنانے کا ذکر ہے۔
- مسلمان بھائی کی وفات پر دعا اور نماز کا اہتمام کیا گیا۔
