صحیح مسلم حدیث ۲۲۱۰ - نجاشی کے لیے نماز جنازہ

بھائی کا جنازہ: نجاشی کے لیے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۱۰

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " ، يَعْنِي : النَّجَاشِيَ ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ : " إِنَّ أَخَاكُمْ " .

عمران بن حصین روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تمہارا بھائی فوت ہو گیا تو تم کھڑے ہو جاؤ اور اس پر جنازہ پڑھو۔“ یعنی نجاشی پر اور زہیر کی روایت میں «إِنَّ أَخَاكُمْ» ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارا بھائی فوت ہو گیا، لہٰذا کھڑے ہو جاؤ اور اس پر جنازہ پڑھو۔ روایت میں وضاحت ہے کہ اس سے مراد نجاشی تھے۔ ایک روایت میں الفاظ تمہارے بھائی کے آئے ہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع بھائی کا جنازہ، غائبانہ نماز جنازہ اور مسلمان کی وفات پر نماز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کو دور ہونے کے باوجود مسلمان بھائی کے طور پر یاد کیا۔ متن میں حکم یہ ہے کہ کھڑے ہو کر اس پر نماز پڑھو۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح میں تعلق، دعا، اور نماز جنازہ کی اجتماعی صورت کو سادہ انداز میں سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نجاشی کے لیے بھائی کا لفظ استعمال ہوا، جو ایمانی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
  • وفات کی خبر کے بعد نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا گیا۔
  • اس روایت میں نجاشی کی صراحت موجود ہے۔
  • حدیث میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا واضح ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں