صحیح مسلم حدیث ۲۲۱۶ - جنازہ میں چار اور پانچ تکبیریں

نماز جنازہ کی تکبیریں: چار اور پانچ کا ذکر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۱۶

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : " كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا " ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا " .

عبدالرحمٰن روایت:

سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں کی نماز میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور ایک جنازہ پر پانچ تکبیریں کہیں اور ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کہتے تھے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۱۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے، لیکن ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسا کرتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع جنازہ کی تکبیریں، چار تکبیریں اور پانچ تکبیریں ہے۔ روایت میں نہ کسی بحث کا ذکر ہے، نہ کسی کو غلط کہا گیا، بلکہ ایک عمل کے بارے میں سوال ہوا اور جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کیا گیا۔ اس متن سے ہمیں اتنا ہی سمجھ آتا ہے کہ زید رضی اللہ عنہ کے علم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی پانچ تکبیروں کا عمل بھی آیا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا زید رضی اللہ عنہ عام طور پر جنازہ میں چار تکبیریں کہتے تھے۔
  • ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں۔
  • پوچھنے پر انہوں نے اس عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا۔
  • دینی مسئلہ سمجھ نہ آئے تو اہل علم سے سوال کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں