صحیح مسلم حدیث ۲۲۶۱ - قبروں کی زیارت اور شرعی احتیاط
قبروں کی زیارت کی حدیث: حکم کی روایت اور امانت
صحیح مسلم : ۲۲۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۶۱
ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَأُرَاهُ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّكُّ مِنْ أَبِي خَيْثَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ .
بریدہ روایت:
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے باپ بریدہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، سب نے ابی سنان کے مانند روایت کی (یعنی جو اوپر گزری)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کے موجودہ متن میں اصل حکم دوبارہ تفصیل سے نہیں آیا، بلکہ بتایا گیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے، اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، ابی سنان والی سابقہ روایت کے معنی کے مطابق نقل کیا۔ اس لیے اس روایت کا مرکزی سبق حدیث کو امانت کے ساتھ نقل کرنا ہے۔ دیگر روایات کے مطابق اسی سابقہ مضمون میں قبروں کی زیارت، قربانی کے گوشت کو رکھنے، نبیذ کے برتن، اور نشہ آور چیز سے بچنے کا ذکر آتا ہے۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ ایک ہی بات کئی سندوں سے بیان ہوئی، جس سے حدیث کے الفاظ اور معنی کی حفاظت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین کی بات نقل کرتے وقت احتیاط، نسبت، اور اصل ماخذ کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث بیان کرتے وقت سند اور نسبت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- ایک ہی مضمون کئی سندوں سے آئے تو روایت کے معنی کی تائید ہوتی ہے۔
- جس متن میں تفصیل نہ ہو، وہاں سابقہ روایت کی طرف اشارہ سمجھا جائے۔
- دینی بات کو اپنی طرف سے بڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
