صحیح مسلم حدیث ۲۲۶۲ - خودکشی اور نماز جنازہ کا سبق
خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ: ایک سنجیدہ حدیث
صحیح مسلم : ۲۲۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۶۲
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " .
جابر بن سمرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے اپنے آپ کو ایک چوڑے تیر سے مار ڈالا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز نہ پڑھی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۶۲ کا خلاصہ
یہ حدیث خودکشی کی سنگینی کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، جس نے اپنے آپ کو چوڑے تیر سے مار ڈالا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز نہ پڑھی۔ اس متن میں صرف اتنی بات آئی ہے، اس لیے اس سے آگے کوئی تفصیلی حکم اپنی طرف سے نہیں بڑھانا چاہیے۔ عام فہم انداز میں حدیث کا پیغام یہ ہے کہ اپنی جان کو نقصان پہنچانا بہت سخت معاملہ ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل میں لوگوں کے لیے تنبیہ موجود ہے۔ یہ حدیث خودکشی کی حدیث، نماز جنازہ کی حدیث، اور جان کی حرمت کے موضوع پر بہت اہم ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ جان انسان کی اپنی ملکیت نہیں کہ وہ اسے خود ختم کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنی جان کو نقصان پہنچانا انتہائی سنگین عمل ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں اس معاملے پر سخت تنبیہ ہے۔
- حدیث کے متن سے باہر غیر ضروری تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
- جان کی حفاظت دین کے اہم اخلاقی پیغام میں شامل ہے۔
