صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۷ - حرص اور توبہ

سونے کی وادی والی حدیث: حرص سے توبہ تک

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۱۷

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ ، أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ ، وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ فرمایا: ”اگر آدمی کا ایک جنگل سونے کا ہو تو بھی آرزو کرے کہ دوسرا ہو اور اس کا منہ نہیں بھرتی مگر مٹی (قبر کی) اور اللہ رجوع کرتا ہے اس کی طرف جو توبہ کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں مثال مال کی جگہ سونے کی وادی سے دی گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ اگر آدمی کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ ایک اور ہو۔ پھر فرمایا کہ اس کا منہ مٹی کے سوا نہیں بھرتی، اور اللہ اس کی طرف رجوع فرماتا ہے جو توبہ کرے۔ یہ روایت انسان کو اپنی خواہش کی حد دکھاتی ہے۔ کبھی ایک کامیابی کے بعد دوسری، پھر تیسری خواہش دل میں آتی ہے۔ مال کی حرص کی حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ جائز کمائی چھوڑ دو، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ دل کو بے حد چاہت کے حوالے نہ کرو۔ آخر میں توبہ کا ذکر دل کو امید دیتا ہے کہ اگر آدمی اپنی غلط چاہت سے پلٹ آئے تو اللہ کی طرف رجوع کا راستہ موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک بڑی نعمت کے بعد بھی مزید کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔
  • مٹی کا ذکر انسان کو اپنی انتہا یاد دلاتا ہے۔
  • توبہ کا دروازہ اس حدیث میں امید کے طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں