صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۸ - مال کی خواہش
مال سے بھری وادی کی حدیث: خواہش کی حد
صحیح مسلم : ۲۴۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۱۸
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالًا ، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ .
عبداللہ بن عباس روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ”اگر آدمی کا ایک میدان مال سے بھرا ہو تو بھی چاہے گا کہ اسی کے برابر اور ہو اور آدمی کا جی کسی چیز سے نہیں بھرتا سوا مٹی کے اور رجوع ہوتا ہے اللہ کا اس پر جو توبہ کرے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں یہ ہے کہ میں نہیں جانتا قرآن میں سے ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نام نہیں لیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی بات بیان کی کہ اگر آدمی کے پاس مال سے بھری ایک وادی ہو تو وہ اس جیسی دوسری وادی چاہے گا۔ پھر فرمایا گیا کہ ابن آدم کے نفس کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی، اور اللہ اس پر رجوع فرماتا ہے جو توبہ کرے۔ روایت کے آخر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی احتیاط بھی ہے کہ انہیں معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں۔ اس سے ہمیں روایت کے الفاظ میں امانت کا سبق بھی ملتا ہے۔ اصل مضمون مال کی خواہش، قناعت اور توبہ ہے۔ انسان اگر اپنی حرص کو سمجھ لے تو وہ دل کو مال کا غلام بنانے کے بجائے اللہ کی طرف پلٹ سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کی کثرت کے بعد بھی مزید کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔
- راوی نے اپنی علمی احتیاط کو صاف بیان کیا۔
- توبہ کرنے والے کے لیے اللہ کی طرف رجوع کا ذکر ہے۔
- قناعت دل کو بے حد طلب سے بچاتی ہے۔
