صحیح مسلم حدیث ۲۴۲ - صدقہ اور استغفار کی تاکید
صدقہ اور استغفار کی نصیحت دوسری سند سے
صحیح مسلم : ۲۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۲
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
بکر بن مضر کی ابن الھاد سے اس سند سے بھی روایت مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۲ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ حدیث کا اصل پیغام پھر سامنے آتا ہے: صدقہ دو، استغفار کرو، زبان کو لعنت سے بچاؤ اور گھر کے رشتوں میں ناشکری نہ کرو۔ عام فہم بات یہ ہے کہ دین انسان کو صرف عبادت ہی نہیں سکھاتا بلکہ بول چال اور گھریلو رویہ بھی درست کرتا ہے۔ اگر زبان سے بار بار بددعا، لعنت یا سخت الفاظ نکلتے رہیں تو دل بھی سخت ہوتا ہے اور تعلقات بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اسی طرح شوہر کی بھلائی کو بھلا دینا بھی ناپسندیدہ رویہ ہے۔ اس روایت میں تفصیل مختصر ہے، مگر اشارہ پچھلی حدیث ہی کی طرف ہے، اس لیے اس کا سبق بھی عملی اصلاح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی دینی نصیحت مختلف سندوں سے بھی نقل ہو سکتی ہے۔
- صدقہ اور استغفار کو روزمرہ عادت بنانا چاہیے۔
- زبان کی سختی اور ناشکری سے بچنا چاہیے۔
