صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۱ - مال کو حق کے ساتھ لینے کی حدیث
مالِ حلال کی حدیث: حق سے لیا ہوا مال برکت بنتا ہے
صحیح مسلم : ۲۴۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۲۱
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ ، فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ " ، قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ أَوَ خَيْرٌ هُوَ ، إِنَّ كُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا ، اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ ، ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَكَلَتْ ، فَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ ، فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ " .
ابوسعید روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں میں وعظ کہا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے لوگو! میں تمہارے لئے کسی اور چیز سے نہیں ڈرتا ہوں مگر اس سے جو اللہ تعالیٰ نکالتا ہے تمہارے لئے دنیا کی زینت۔“ تو ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! کیا خیر کا نتیجہ شر بھی ہوتا ہے؟ (یعنی دنیا کی دولت اور حکومت آنا اور اسلام کی ترقی ہونا تو خیر ہے اس کا نتیجہ برا کیوں کر ہو گا) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے تھوڑی دیر۔ پھر فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ (پھر اس کے سوال کو پوچھ لیا کہ کہیں بھول نہ گیا ہو تو مطابقت جواب کی سوال کے ساتھ اس کی سمجھ میں نہ آئے) اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول! کیا خیر کا نتیجہ شر بھی ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں خیر کا نتیجہ تو خیر ہی ہوتا ہے مگر اتنی بات ہے کہ بہار کے دنوں جو سبزہ اگتا ہے (اور اسے تم خیر بھی جانتے ہو) وہ نہیں مارتا ہے ہیضہ سے اور نہ قریب المرگ کرتا ہے مگر ہرا چرنے والے کو کہ وہ کھا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی کوکھیں پھول جاتی ہیں اور سورج کے سامنے ہو کر پتلا ہگنے لگتا ہے یا موتنے لگتا ہے پھر جگالی کرنے لگتا ہے اور پھر چرنے جاتا ہے (یہاں تک کہ اسی لوٹ پوٹ میں مر جاتا ہے) یہی حال اس مال کا ہے جو اس کو حق کے ساتھ لیتا ہے اس کو برکت ہوتی ہے اور جو ناحق طور پر لیتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے کہ کھا جاتا ہے اور پیٹ نہیں بھرتا۔“ (جیسے اس ہری چرنے والے کا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام مال اور دنیا کی زینت کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کو امت کے لیے دنیا کی رونق اور مال کے کھل جانے کا ڈر ہے۔ سوال ہوا کہ کیا خیر سے شر آتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ خیر کا نتیجہ خیر ہی ہوتا ہے، مگر مسئلہ انسان کے لینے اور استعمال کرنے کے انداز میں ہے۔ بہار کا سبزہ اچھا لگتا ہے، لیکن جانور اگر حد سے زیادہ کھائے تو نقصان اٹھاتا ہے۔ اسی طرح مال بھی بظاہر میٹھا اور پسندیدہ ہے۔ جو مال کو حق کے ساتھ لیتا ہے اس کے لیے برکت کا سبب بنتا ہے، اور جو ناحق لیتا ہے وہ ایسے شخص جیسا ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کا مال خود برا نہیں، مگر اسے لینے کا طریقہ اہم ہے۔
- حق کے ساتھ حاصل کیا ہوا مال برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
- ناحق مال انسان کے اندر حرص کو کم نہیں کرتا بلکہ بڑھاتا ہے۔
- دولت کی چمک انسان کے لیے آزمائش بن سکتی ہے۔
