صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۰ - دل کی امیری
دل کی امیری کی حدیث: اصل غنا قناعت ہے
صحیح مسلم : ۲۴۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۲۰
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امیری سامان بہت ہونے سے نہیں ہے بلکہ امیری دل سے ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیری کا معیار بدل کر رکھ دیا۔ فرمایا کہ امیری سامان بہت ہونے سے نہیں، بلکہ امیری دل سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس چیزیں زیادہ ہوں مگر دل ہر وقت مزید چاہتا رہے تو اندر سے کمی باقی رہتی ہے۔ دوسری طرف دل میں قناعت ہو تو آدمی اپنی حالت کو بہتر انداز سے سنبھالتا ہے۔ دل کی امیری کی حدیث مال کو برا نہیں کہتی، بلکہ مال کو اصل کامیابی نہیں بناتی۔ اصل غنا دل کی بے نیازی، شکر اور قناعت ہے۔ یہ روایت روزمرہ زندگی میں بہت کام آتی ہے، کیونکہ انسان اکثر چیزوں کی تعداد سے اپنی خوشی ناپتا ہے۔ حدیث بتاتی ہے کہ اصل نظر دل پر رکھو، صرف سامان پر نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیادہ سامان ہونا اصل امیری نہیں۔
- دل کی بے نیازی کو حقیقی غنا بتایا گیا۔
- قناعت انسان کو اندر سے مطمئن بناتی ہے۔
- مال کو مقصد بنانے کے بجائے دل کی حالت درست رکھنی چاہیے۔
