صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۳ - قتل کی اجازت نہ دینے کا واقعہ

خوارج کے پیش خیمہ کی حدیث: جلدی فیصلہ نہ کرنے کی نبوی احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵۳

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ ، وَقَالَ : " نَاتِئُ الْجَبْهَةِ " ، وَلَمْ يَقُلْ : " نَاشِزُ " ، وَزَادَ : فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ، قَالَ : " لَا " ، قَالَ : ثُمَّ أَدْبَرَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اللَّهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ، قَالَ : " لَا " ، فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ لَيِّنًا رَطْبًا " ، وَقَالَ : قَالَ عُمَارَةُ : حَسِبْتُهُ قَالَ : " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " ،

‏‏‏‏ یہ حدیث سابقہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس میں یہ وضاحت ہے کہ اس آدمی کو قتل کرنے کی اجازت پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مانگی پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مانگی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کا ایک حصہ ہے، مگر اس میں ایک خاص بات صاف بیان ہوئی ہے کہ اس شخص کو قتل کرنے کی اجازت پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مانگی، پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مانگی۔ دونوں مرتبہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اجازت نہیں دی۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ کی کتاب نرم اور رواں پڑھیں گے۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر آپ صلى الله عليه وسلم انہیں پائیں تو ثمود کے قتل کی طرح قتل کریں گے، مگر راوی نے اسے اپنے گمان کے انداز میں بیان کیا۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ سخت بدزبانی کے باوجود نبی صلى الله عليه وسلم نے اسی وقت قتل کا حکم نہیں دیا۔ ساتھ ہی آپ صلى الله عليه وسلم نے آنے والے ایک خطرناک گروہ کی خبر بھی دی۔ اس لیے یہ خوارج کی علامات، قرآن پڑھنے والے مگر اثر سے خالی لوگوں، اور نبوی احتیاط کے موضوع پر اہم روایت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا عمر اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے روک دیا۔
  • سخت اعتراض کے باوجود فوری قتل کی اجازت نہیں دی گئی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ایسے گروہ کی خبر دی جو قرآن پڑھیں گے مگر راہ سے ہٹ جائیں گے۔
  • راوی نے بعض الفاظ کو گمان کے انداز میں نقل کیا، اس لیے اسی احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں