صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۴ - خوارج کی اصل سے متعلق روایت
خوارج کی علامات کی حدیث: روایت کے الفاظ میں فرق
صحیح مسلم : ۲۴۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵۴
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ " بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ : زَيْدُ الْخَيْرِ ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ " ، وَقَالَ : " نَاشِزُ الْجَبْهَةِ " كَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ " وَلَمْ يَذْكُرْ : " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " .
یہ حدیث بھی سابقہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول نہیں ہے کہ ”اگر میں نے ان کو پایا تو میں ان کو قتل کروں گا ثمود کے قتل کرنے کی طرح۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی واقعے کا ایک حصہ ہے جس میں سونے کی تقسیم، کچھ افراد کے نام، اور ایک سخت اعتراض کرنے والے شخص کی اصل سے نکلنے والی قوم کا ذکر ہے۔ اس روایت میں زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن، اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کے نام آتے ہیں۔ پھر اس شخص کے بارے میں کہا گیا کہ اس کی اصل سے ایک قوم نکلے گی۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ اس روایت میں وہ جملہ نہیں آیا کہ اگر میں انہیں پاؤں تو ثمود کے قتل کی طرح قتل کروں گا۔ اس سے قاری کو حدیث کے متن کی ایک اہم احتیاط سمجھ آتی ہے: جو الفاظ جس روایت میں ہوں، انہیں اسی روایت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ خوارج کی علامات، قرآن کی تلاوت، اور دین سے نکلنے کی مثال دوسری روایات میں بھی آتی ہے، مگر اس متن میں موجود اور غیر موجود الفاظ کو جدا رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں چار افراد کے ناموں کا بیان آیا ہے۔
- یہاں ثمود کی طرح قتل کرنے والا جملہ نقل نہیں ہوا۔
- حدیث کے الفاظ بیان کرتے وقت روایت کے فرق کا خیال رکھنا چاہیے۔
- اس واقعے میں خوارج کی اصل سے متعلق خبر دی گئی ہے۔
