صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۵ - حروریہ اور خوارج کی علامت

خوارج کی علامات کی حدیث: نماز، تلاوت اور دین سے نکلنے کی مثال

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵۵

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أنهما أتيا أبا سعيد الخدري فسألاه عَنْ الْحَرُورِيَّةِ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا ؟ ، قَالَ : لَا أَدْرِي مَنْ الْحَرُورِيَّةُ ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ ، فَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ أَوْ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فَيَنْظُرُ الرَّامِي إِلَى سَهْمِهِ إِلَى نَصْلِهِ إِلَى رِصَافِهِ ، فَيَتَمَارَى فِي الْفُوقَةِ هَلْ عَلِقَ بِهَا مِنَ الدَّمِ شَيْءٌ " .

ابوسلمہ اور عطاء روایت:

ابوسلمہ اور عطاء دونوں، ابوسعید کے پاس آئے اور کہا کہ حروریہ کے باب میں تم نے کچھ سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا کچھ ذکر کرتے تھے؟انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ حروریہ کون لوگ ہیں مگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرماتے تھے: ”اس امت میں ایک قوم نکلے گی اور یہ نہیں فرمایا کہ اس امت سے ہو گی غرض وہ ایسے ہوں گے کہ حقیر جانو گے تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے آگے اور قرآن پڑھیں گے کہ ان کے حلقوں سے یا فرمایا گلوں سے نیچے نہ اترے گا دین سے ایسے نکل جائیں گے۔ جیسے تیر شکار سے کہ شکاری دیکھتا ہے اپنے تیر کی لکڑی کو اور اس کی پھال کو اور اس کے پر کو اور غور کرتا ہے اس کے کنارہ اخیر کو جو اس کی چٹکیوں میں تھا کہ کہیں اس کی کسی چیز میں کچھ خون بھرا ہے۔“ (تو دیکھتا ہے کہ کہیں بھی نہیں بھرا)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۵ کا خلاصہ

یہ خوارج کی علامات سے متعلق اہم حدیث ہے۔ ابوسلمہ اور عطاء نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حروریہ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا حروریہ کون ہیں، مگر میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سنا کہ اس امت میں ایک قوم نکلے گی۔ ان کی نماز دیکھ کر تم اپنی نماز کو کم سمجھو گے، وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق یا گلے سے نیچے نہیں اترے گا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے دین سے نکلنے کی مثال تیر کے شکار سے نکل جانے جیسی دی۔ تیر انداز تیر کے مختلف حصوں کو دیکھتا ہے کہ کہیں خون لگا ہے یا نہیں، مگر کچھ نہیں پاتا۔ یہ حدیث ظاہر کے اعمال اور اندر کی حقیقت میں فرق کو بہت سنجیدہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس کا پیغام یہ نہیں کہ نماز یا قرآن کم اہم ہیں، بلکہ یہ کہ عبادت دل کی درستگی اور حق پر قائم رہنے کے ساتھ ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کچھ لوگوں کی نماز ظاہری طور پر بہت نمایاں ہو سکتی ہے۔
  • قرآن پڑھنا کافی نہیں جب اس کا اثر دل تک نہ پہنچے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے دین سے نکلنے کی مثال تیر کے نکلنے سے دی۔
  • سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کو سنی ہوئی حدیث تک محدود رکھا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں