صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۳ - صدقہ آل رسول پر حرام
صدقہ آل رسول کے لیے نہیں: حسن رضی اللہ عنہ کی کھجور والی حدیث
صحیح مسلم : ۲۴۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِخْ كِخْ ارْمِ بِهَا أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ " ،
ابوہریرہ روایت:
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک کھجور صدقہ کی اپنے منہ میں لے کر ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھو تھو پھینک دے اس کو کیا تو نہیں جانتا کہ ہم لوگ صدقہ نہیں کھاتے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع صدقہ اور آل رسول صلى الله عليه وسلم ہے۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں رکھ لی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فوراً فرمایا: تھو تھو، اسے پھینک دو، کیا تم نہیں جانتے کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟ اس واقعہ میں تعلیم کا انداز بہت صاف ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک بچے کو بھی حرام یا ممنوع چیز سے روکنے میں نرمی کے ساتھ فوراً اصلاح فرمائی۔ حدیث میں صرف صدقہ کی کھجور کا ذکر ہے، اس لیے اسی حد تک بات کرنی چاہیے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ صدقہ کے مال کے بارے میں شرعی حد کا خیال رکھا جائے، خاص طور پر آل محمد صلى الله عليه وسلم کے بارے میں کہ وہ صدقہ نہیں کھاتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں کو دینی بات وقت پر اور صاف انداز میں سکھانی چاہیے۔
- صدقہ کے مال کے بارے میں شرعی حد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- حدیث کے مطابق آل رسول صلى الله عليه وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔
