صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۲ - مشرق اور سر منڈانا
خوارج کی علامت: مشرق کی طرف سے سر منڈائے ہوئے لوگ
صحیح مسلم : ۲۴۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ ، جَمِيعًا ، عَنْ يَزِيدَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إسحاق الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَتِيهُ قَوْمٌ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ " .
سھل بن حنیف روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک قوم نکلے گی مشرق کی طرف سے سر منڈائے ہوئے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک قوم مشرق کی طرف سے نکلے گی، ان کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔ متن بہت مختصر ہے، اس لیے شرح بھی اسی دائرے میں رہنی چاہیے۔ یہاں خوارج کی حدیث کے باب میں ایک ظاہری علامت بیان ہوئی ہے: مشرق کی سمت اور سر منڈانا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سر منڈانے والے پر یہ حکم لگا دیا جائے؛ حدیث ایک خاص قوم کے بارے میں ہے جس کا ذکر اسی باب کی دوسری روایات میں آیا ہے۔ عام فہم سبق یہ ہے کہ دینی نصوص کو جلدی بازی میں لوگوں پر چسپاں نہ کیا جائے، بلکہ مکمل متن، موقع اور الفاظ کو دیکھ کر سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں مشرق کی سمت سے نکلنے والی خاص قوم کا ذکر ہے۔
- سر منڈانا اس روایت میں ان کی ایک ظاہری علامت کے طور پر آیا ہے۔
- کسی ایک علامت سے عام لوگوں پر حکم لگانا درست انداز نہیں۔
