صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۱ - خوارج کے کئی گروہ

خوارج کے کئی گروہ: حدیث کا مختصر بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷۱

وحَدَّثَنَاه أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : " يَخْرُجُ مِنْهُ أَقْوَامٌ " .

سلیمان روایت:

اور یہ روایت کی ہم سے ابوکامل نے، انہوں نے عبدالواحد سے، انہوں نے سلیمان سے اسی اسناد سے اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکلیں گی ان سے کئی قومیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۱ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث ہی کی سند سے آئی ہے، مگر اس میں ایک خاص لفظی اضافہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ان سے کئی قومیں نکلیں گی۔ اس سے حدیث کا مضمون مزید واضح ہوتا ہے کہ خوارج کا معاملہ صرف ایک مختصر جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے فتنے کا بیان ہے جس میں ایک سے زیادہ گروہوں کا نکلنا ذکر ہوا۔ چونکہ متن مختصر ہے، اس لیے اس سے زیادہ تفصیل اپنی طرف سے نہیں بڑھانی چاہیے۔ خوارج کی حدیث پڑھتے وقت یہی احتیاط ضروری ہے کہ جہاں روایت صرف ایک لفظ یا ایک جملہ بتا رہی ہو، وہاں اسی کو اصل رکھا جائے۔ اس حدیث کا تعلیمی پہلو یہ ہے کہ فتنوں میں الفاظ، رخ اور اصل تعلیم کو سنبھال کر سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک ہی مضمون کی روایت میں کبھی ایک اضافی لفظ اہم ہوتا ہے۔
  • حدیث میں کئی گروہوں کے نکلنے کا ذکر آیا ہے۔
  • مختصر روایت سے غیر ضروری لمبی باتیں نہیں نکالنی چاہییں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں