صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۰ - مشرق سے خوارج کا خروج

مشرق کی طرف سے خوارج: قرآن زبان پر مگر دل تک نہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ ؟ ، فَقَالَ : " سَمِعْتُهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ ، لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " ،

سہیل روایت:

سنا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ذکر کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوارج کا اور کہا انہوں نے کہ سنا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ اشارہ کرتے تھے مشرق کی طرف اور فرماتے تھے: ”وہ ایسی قوم ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں اپنی زبانوں سے اور اترتا نہیں ہے ان کے گلوں سے، نکل جاتے ہیں وہ دین سے جیسے نکل جاتا ہے تیر شکار سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو خوارج کا ذکر کرتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، میں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم قرآن اپنی زبانوں سے پڑھے گی، مگر وہ ان کے حلقوں سے آگے نہیں جائے گا، اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکلتا ہے۔ اس روایت میں اصل زور اس بات پر ہے کہ ظاہری تلاوت کافی نہیں۔ خوارج کی حدیث میں بار بار یہی نکتہ آتا ہے کہ قرآن اگر دل، سمجھ اور عمل تک نہ پہنچے تو صرف زبان پر رہ جانا خطرے کی بات ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی تلاوت زبان کے ساتھ دل اور عمل تک پہنچنی چاہیے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس قوم کے نکلنے کی سمت کا ذکر بھی فرمایا۔
  • حدیث میں خوارج کے دین سے نکلنے کی مثال تیر سے دی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں