صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۳ - ماہ کی مدت انتیس دن بھی ہو سکتی ہے
قمری مہینہ اور انتیس دن: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تعلیم
صحیح مسلم : ۲۵۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۲۳
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا ، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ ، فَقِيلَ لَهُ : حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا ، قَالَ : " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا " ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۲۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ایک ماہ تک اپنے بعض اہل خانہ کے پاس تشریف نہیں لے جائیں گے۔ جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صبح یا شام ان کے پاس تشریف لے گئے۔ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ نے تو ایک ماہ نہ آنے کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اس حدیث سے قمری مہینہ کی ایک اہم بات سمجھ آتی ہے کہ شرعی گنتی میں انتیس دن کا مہینہ بھی مکمل مہینہ ہے۔ یہاں اصل سبق یہی ہے کہ ماہ کی مدت ہمیشہ تیس دن نہیں ہوتی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انتیس دن کو بھی مہینہ فرمایا تو اس بات کو آسانی سے قبول کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انتیس دن گزر جائیں تو قمری مہینہ مکمل ہو سکتا ہے۔
- شرعی بات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت فیصلہ کن ہے۔
- قسم یا مدت کے معاملے میں قمری مہینے کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔
