صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۶ - بلال کی اذان اور سحری کا حکم

بلال کی اذان اور سحری: ابن ام مکتوم کی اذان تک کھاؤ پیو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۳۶

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا ، حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " .

عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ بلال رات کو اذان دیتے ہیں (تاکہ تہجد پڑھنے والے کھانے کو جائیں اور سحری سے فارغ ہو جائیں) سو تم کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔“ (اور وہ نابینا تھے جب لوگ کہتے کہ صبح ہوئی صبح ہوئی تب اذان دیتے)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۶ کا خلاصہ

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات کو اذان دیتے ہیں، اس لیے تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور جب لوگ کہتے کہ صبح ہو گئی تو وہ اذان دیتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع سحری اور اذان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اذان کا وقت اور مقصد سمجھنا ضروری ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان رات میں ہوتی تھی، اس لیے وہ سحری روکنے کی علامت نہیں تھی۔ سحری کا تعلق اس اذان سے رکھا گیا جو فجر کے وقت دی جاتی تھی، یعنی ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بلال رضی اللہ عنہ کی رات والی اذان سحری روکنے کے لیے نہیں تھی۔
  • سحری ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان تک جاری رکھی جا سکتی تھی۔
  • اذان کے وقت اور مقصد کو حدیث کے مطابق سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں