صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۵ - دھاگوں سے مراد رات اور دن
سحری کے وقت کی پہچان: دھاگوں سے مراد رات اور دن
صحیح مسلم : ۲۵۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۳۵
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 ، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ ، رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الْأَبْيَضَ ، فَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ ، حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 ، فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ " .
سہل بن سعد روایت:
جب یہ آیت اتری «وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ» تو آدمی جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتا تو دو دھاگے اپنے پیر میں باندھ لیتا ایک سفید دوسرا سیاہ اور کھاتا پیتا رہتا یہاں تک کہ اس کو دیکھنے میں کالے اور سفید کا فرق معلوم ہونے لگتا تب اللہ پاک نے اس کے بعد «مِنَ الْفَجْرِ» کا لفظ اتارا تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ دھاگوں سے مراد رات اور دن ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۵ کا خلاصہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں بتایا گیا کہ جب آیت نازل ہوئی تو روزہ رکھنے کا ارادہ کرنے والا شخص اپنے پاؤں میں ایک سفید اور ایک سیاہ دھاگہ باندھ لیتا، پھر کھاتا پیتا رہتا یہاں تک کہ اسے دونوں کے رنگ میں فرق نظر آ جاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے من الفجر کے الفاظ نازل فرمائے، تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ دھاگوں سے مراد رات اور دن ہیں۔ یہ حدیث سحری کا آخری وقت سمجھنے میں بہت واضح ہے۔ اصل مقصد یہ نہیں تھا کہ کوئی شخص دھاگے دیکھ کر فیصلہ کرے، بلکہ فجر کے ظاہر ہونے پر رات کی تاریکی اور دن کی سفیدی کا فرق معلوم ہو۔ اس سے دینی حکم کو صحیح معنی میں سمجھنے کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دھاگوں سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔
- سحری فجر کے واضح ہونے تک کی جا سکتی ہے۔
- صحیح معنی معلوم ہو جائے تو عمل بھی درست ہو جاتا ہے۔
