صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۷ - ابن ام مکتوم کی اذان تک سحری

سحری کا وقت: بلال کی اذان کے بعد ابن ام مکتوم کی اذان تک

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۳۷

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا ، حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۷ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بلال رات کو اذان دیتے ہیں، پس تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔ یہ حدیث سحری اور اذان کے مسئلے میں بہت واضح ہے۔ یہاں بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کا وقت رات بتایا گیا ہے، اس لیے اس اذان کو سحری بند کرنے کی علامت نہیں بنایا گیا۔ سحری کا اختتام اس اذان کے ساتھ بتایا گیا جو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دیتے تھے۔ اس سے ایک عام مسلمان کے لیے سادہ بات سامنے آتی ہے کہ سحری کے وقت میں اذانوں کے فرق کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ ہر اذان کا حکم ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات والی اذان اور فجر والی اذان میں فرق سمجھنا چاہیے۔
  • حدیث کے مطابق سحری ابن ام مکتوم کی اذان تک جاری تھی۔
  • دینی عمل میں وقت کی پہچان اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں