صحیح مسلم حدیث ۲۵۷۲ - رحمت کے طور پر ممانعت

وصال سے ممانعت رحمت ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۷۲

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جميعا ، عَنْ عَبْدَةَ ، قَالَ إسحاق : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ ، فَقَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ ، إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " .

عائشہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا لوگوں کو وصال سے، رحمت کی نظر سے اور عرض کی لوگوں نے کہ آپ تو وصال فرماتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح کا نہیں ہوں، مجھے تو کھلاتا ہے رب میرا اور پلاتا ہے (یہاں پر مؤلف رحمہ اللہ نے بیاض چھوڑ دی ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو وصال سے منع فرمایا، اور متن میں صاف لفظ آیا کہ یہ ممانعت ان پر رحمت کی وجہ سے تھی۔ جب لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم تو وصال کرتے ہیں، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اس روایت کی خاص بات یہی ہے کہ ممانعت کو سختی نہیں بلکہ رحمت کے طور پر سمجھایا گیا۔ صوم وصال کی ممانعت، وصال کا روزہ حدیث، اور دین میں آسانی حدیث جیسے سرچ کرنے والوں کے لیے یہ حدیث بہت صاف جواب دیتی ہے: نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کو ایسے عمل سے روکا جس میں عام لوگوں کے لیے مشقت تھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وصال سے ممانعت لوگوں پر رحمت کے طور پر بیان ہوئی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے خاص حال کو عام لوگوں سے الگ بتایا۔
  • عبادت میں آسانی اور طاقت کا لحاظ نبی صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں