صحیح مسلم حدیث ۲۵۸۸ - روزہ، بوسہ اور تقویٰ

روزہ میں بوسہ اور تقویٰ: سوال، جواب اور نبوی وضاحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۸۸

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ ؟ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ هَذِهِ لِأُمِّ سَلَمَةَ " ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ ، وَأَخْشَاكُمْ لَهُ " .

عمر بن ابوسلمہ روایت:

سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا صائم بوسہ لے؟ تو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ سے پوچھو۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بوسہ لیتے ہیں۔ تب سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ سب معاف کر دئیے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ ہو میں تم سب میں سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور خوف کرنے والا ہوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۵۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا صائم بوسہ لے سکتا ہے؟ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کو فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بھی ایسا کرتے ہیں۔ جب سائل نے یہ بات کہی کہ اللہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں، تو نبی صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے اور خوف کرنے والے ہیں۔ اس روایت میں روزہ میں بوسہ کے ساتھ تقویٰ کا پہلو بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل بے احتیاطی نہیں تھا، بلکہ اللہ کے خوف کے ساتھ تھا۔ اس لیے صائم کا بوسہ لینا، روزہ دار کی احتیاط، اور نبوی تقویٰ اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سوال پوچھ کر دینی بات معلوم کرنا درست طریقہ ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کے ساتھ اللہ کا خوف اور تقویٰ بھی بیان ہوا ہے۔
  • سائل کے شبہ کا جواب نبی صلى الله عليه وسلم نے واضح انداز میں دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں