صحیح مسلم حدیث ۲۵۸۹ - جنابت میں روزہ
جنابت میں روزہ: فجر کے بعد غسل اور روزہ رکھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۵۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۸۹
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُصُّ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ " مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ " ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ " ، قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : " عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ " ، قَالَ : فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ حَاضِرُ ذَلِكَ كُلِّهِ ، قَالَ : فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أَهُمَا قَالَتَاهُ لَكَ ؟ " قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ : " هُمَا أَعْلَمُ " ، ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ إِلَى الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ الْفَضْلِ ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ ، قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ : " أَقَالَتَا فِي رَمَضَانَ ؟ " قَالَ : " كَذَلِكَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ، ثُمَّ يَصُومُ " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی روایتوں میں کہتے تھے کہ جس کو فجر ہو جائے حالت جنابت میں وہ روزہ نہ رکھے۔ سو میں نے (یہ مقولہ ہے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کا) عبدالرحمٰن سے کہا: جو میرے باپ تھے انہوں نے اس کا انکار کیا اور ہم دونوں (یعنی ابوبکر اور عبدالرحمٰن) سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہن کے پاس گئے اور عبدالرحمٰن نے ان سے پوچھا: تو دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت جنابت میں صبح ہو جاتی تھی اور پھر روزہ رکھتے تھے اور جنابت بغیر احتلام کے ہوتی تھی (اس لیے کہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا یعنی صحبت سے بیبیوں کے جنابت ہوتی ہے) کہا ابوبکر نے پھر ہم گئے مروان کے پاس اور عبدالرحمٰن نے ان سے ذکر کیا۔سو مروان نے کہا: میں تم کو قسم کو دیتا ہوں کہ تم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان کی بات کا جواب دے دو پھر ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابوبکر ان سب باتوں میں حاضر تھا اور ذکر کیا عبدالرحمٰن نے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان دونوں بیبیوں نے فرمایا تم سے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیشک وہ اور لوگوں سے زیادہ جانتی ہیں پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس قول کی نسبت فضل بن عباس کی طرف کی اور کہا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے یہ بات فضل سے سنی تھی تو اس کو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا۔غرض سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس بات سے رجوع کیا جو وہ اس مسئلہ میں کہا کرتے تھے پھر میں نے (یہ مقولہ ہے ابن جریج کا) عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں بیبیوں نے رمضان کے روزے کو کہا؟ انہوں نے کہا کہ ایسا فرمایا بیبیوں نے کہ صبح ہوتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت جنابت میں بغیر احتلام کے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جنابت میں روزہ ہے۔ روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ایک قول ذکر ہوا کہ جس کو فجر جنابت کی حالت میں ہو وہ روزہ نہ رکھے۔ پھر ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور عبدالرحمٰن، سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہن کے پاس گئے۔ دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو جنابت کی حالت میں صبح ہو جاتی تھی، پھر آپ صلى الله عليه وسلم روزہ رکھتے تھے، اور یہ جنابت احتلام سے نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات انہوں نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنی تھی، نبی صلى الله عليه وسلم سے نہیں، اور وہ اپنے پہلے قول سے رجوع کر گئے۔ اس حدیث میں مسئلہ بھی ہے اور علم میں رجوع کا ادب بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر کے وقت جنابت ہو تو روایت کے مطابق نبی صلى الله عليه وسلم روزہ رکھتے تھے۔
- سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہن نے گھر کے معاملے کی خبر دی۔
- صحابی نے بات واضح ہونے پر اپنے پہلے قول سے رجوع کیا۔
