صحیح مسلم حدیث ۲۶۰ - کبیرہ گناہوں کی فہرست
کبیرہ گناہ: شرک، والدین کی نافرمانی، قتل اور جھوٹ
صحیح مسلم : ۲۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۰
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي الْكَبَائِرِ ، قَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَقَوْلُ الزُّورِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہوں کے متعلق ”وہ شرک کرنا ہے اللہ کے ساتھ اور نافرمانی کرنا ماں باپ کی اور خون کرنا (ناحق) اور جھوٹ بولنا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۶۰ کا خلاصہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، ناحق خون کرنا، اور جھوٹ بولنا ہیں۔ اس حدیث میں چار بڑے خطرات ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ شرک انسان کے عقیدے کو خراب کرتا ہے۔ والدین کی نافرمانی گھر اور اخلاق کو بگاڑتی ہے۔ ناحق قتل انسانی جان کی حرمت کو پامال کرتا ہے۔ جھوٹ زبان کو گناہ میں ڈال کر اعتماد کو ختم کرتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کو اپنے عقیدے، اپنے والدین، لوگوں کی جان اور اپنی زبان کے معاملے میں بہت محتاط رہنا چاہیے۔ کبیرہ گناہوں سے بچنا صرف ڈر کا معاملہ نہیں، بلکہ اپنی زندگی کو پاک رکھنے کا راستہ بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرک سے بچنا ایمان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔
- والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
- ناحق قتل بہت بڑا جرم ہے۔
- جھوٹ بولنا بھی بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
